نئی دہلی،30/نومبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) اقتصادی سست روی کی وجہ سے مینوفیکچرنگ، زراعت اور کان کنی کے شعبے کی مایوس کن کارکردگی سے رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی میں ملک کے مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح ترقی 26 سہ ماہی کی نچلی سطح 4.5 فیصد پر آ گئی جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ 7.0 فیصد رہی تھی- اس مدت میں گراس ویالیو ایڈیڈ (جی وی اے) ترقی کی شرح 4.3 فیصد رہی جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ 6.9 فیصد رہی تھی- رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں جی ڈی پی کی ترقی کی شرح 5.0 فیصد رہی تھی- رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی کی جی ڈی پی شرح نمو جنوری مارچ 2013 کی سہ ماہی کے بعد سب سے نیچے کی سطح پر ہے- مرکزی دفتر شماریات کی طرف سے جاری اعداد و شمار کے مطابق اس سہ ماہی میں مینوفیکچرنگ کی سرگرمیوں میں منفی 0.4 فیصد اضافہ درج کیا گیا، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ 5.6 فیصد رہی تھی-ملک میں مینوفیکچرنگ سرگرمیوں میں منفی اضافے دیکھے گئے ہیں، جس کی وجہ سے ترقی پر بھاری دباؤ پڑا ہے- رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی میں زرعی شعبے کی ترقی کی شرح 2.1 فیصد رہی ہے جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 4.9 فیصد رہی تھی-رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی میں 4.3 فیصد سے زائد کی ترقی کی شرح حاصل کرنے والے سیکٹروں میں ٹریڈ، ہوٹل، نقل و حمل، مواصلات اور نشریات سے منسلک سروسز، فائنانس، رئیل اسٹیٹ اور پیشہ ورانہ سروسز اور عوامی گورننس، دفاع اور دیگر سروسز شامل ہیں - اسی طرح سے بجلی، گیس پانی کی فراہمی اور دیگر یوٹی لٹی خدمات کی ترقی کی شرح 3.6 فیصد رہی جبکہ تعمیراتی سرگرمیوں میں 3.3 فیصد کی تیزی رہی-
ہندوستانی معیشت قابل تشویش:منموہن سنگھ:سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے ہندوستانی معیشت کی حالت پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ ملک میں 8 سے 9 فیصد شرح نمو کی توقع کی جارہی تھی لیکن یہ 4.5 فیصد پر آگئی ہے جو قابل قبول نہیں ہے- انہوں نے کہا کہ ہماری معاشی حالت انتہائی تشویشناک ہے اور اس سے بھی بدتر، معاشرے کی حالت ہے جو انتہائی تشویش ناک ہے-سابق وزیر اعظم نے کہا کہ آج کوئی بھی اس سے انکار نہیں کرسکتا کہ ہندوستانی معیشت میں تیزی سے زوال آیا ہے- کوئی بھی تباہ کن نتائج، خصوصا ًکسانوں، نوجوانوں اور غریبوں پر ہونے والے تباہ کن اثرات سے انکار نہیں کرسکتا-